MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


1 Feb 2015

تم نے دیکھی ہے وہ خوابوں کی راہگز

تم نے دیکھی ہے وہ خوابوں کی راہگز
جس کی منزل تھی اُجڑا ہوا نگر
سُر مئی شام تھی جس کے چاروں طرف
جس میں منظر جُدائی کے دے صف بہ صف 

وصل کا سربکف 
بن گیا کرچیاں مَن کا نازک صدف
تو نے دیکھی ہے خوابوں کی وہ راہگزر
سنگ ریزوں کی بارش ہوئی تھی جہاں
اور کومل سے جذبے ہدف بن گئے 

پائمالی نے ان کو لہو کر دیا
با وُضو کر دیا۔۔۔ سُرخرو کر دیا
آج بھی جو مسافر گیا اس طرف
اس نے پایا نہیں واپسی کا نشاں
اُس کو ڈھونڈا فلک نے یہاں سے وہاں
تم نے دیکھی ہے خوابوں کی وہ راہگزر


  GUL ·٠•●♥ (♥♥ مھجے تم یاد آتے ہو ♥♥)♥



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111