MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


4 Feb 2015

روٹھا تو شهرء خواب کو غارت بھی کر گیا

روٹھا تو شهرء خواب کو غارت بھی کر گیا
پھر مسکرا کے تازه شرارت بھی کر گیا

شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بںھت
وه میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

منه روز آندھیوں کی هتھلی په ایک داغ
پیدا میرے لهو میں حرارت بھی کر گیا

بوسیده بادبان کا ٹکڑا هوا کے ساتھ 
طوفان میں کشتیوں کی سفارت بھی کر گیا

دل کا نگر اجاڑنے والا هنر شناس 
تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

سب اھلء شهر جس په اٹھاتے تھے انگلیاں
وه شهر بھر کو وجه زیارت بھی کر گیا

محسن یه دل اس سے بچھڑتا نه تھا کبھی
آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا


  GUL ·٠•●♥ (♥♥ مھجے تم یاد آتے ہو ♥♥)♥



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111