MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


25 Apr 2014

یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے

یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے

اب نۓ سال کی مہلت نہیں ملنے والی
آ چکے اب تو شب و روز عذابوں والے

اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے

زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے

نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا

..!موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111