MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


16 Oct 2014

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے کلام آتے ہیں

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے کلام آتے ہیں
کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں

رہروِ راہِ محبت کا خدا حافظ ہے
اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں

وہ ڈرا ہوں کہ سمجھتا ہوں یہ دھوکا تو نہ ہو
اب وہاں سے جو محبت کے پیام آتے ہیں

رسمِ تحریر بھی مٹ جائے یہی مطلب ہے
اُن کے خط میں مجھے غیروں کے سلام آتے ہیں

وصل کی رات گذر جائے نہ بے لطفی میں
کہ مجھے نیند کے جھونکے سرِ شام آتے ہیں

˙·٠•●♥ H(♥♥ مھجے تم یاد آتے ہو ♥♥)G♥●•



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111