MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


19 Oct 2014

ابھی ٹھہرو!!

ابھی ٹھہرو!!
میں خوابوں کے سفر میں ہوں
مجھے تم نیندوں سے بیدار ہونے دو
ابھی سچ مت کہو مجھ سے
مجھے رسوائیوں کے ڈر ہمیشہ دکھ ہی دیتے ہیں
فقط اک ہجر کا موسم ہمیشہ راس آتا ہے
کبھی دلشاد لمحوں سے
چرالوں میں خوشی کے پل
تو برسوں بیت جاتے ہیں
مجھے آباد ہونے میں
کبھی انجان راستوں پر میری آنکھیں چلیں تنہا
کبھی سایہ مرا اپنی جگہ ہی چھوڑ جاتا ہے
اگرچہ وقت کے چہرے پر سلوٹ ڈھل گئی ہو گی
مگر جذبوں کی جولانی عروج بام رہتی ہے
کہ جب پلکوں کی کھیتی بھی
اگاۓ فصل اشکوں کی
ھحر کے قدموں پرسر رکھ کے بلکتی ہوں
ذرا پوچھو میری خلوت سے یہ آباد کیسے ہے
ابھی بیتے مراسم یاد کی آنکھوں میں ٹھہرے ہیں
ابھی تو دھوپ بھی دیوار کے شانوں سے سرکی ہے
تعلق کے جزیروں پر سنہری شام اتری ہے
ابھی ٹھرو!
ہمارے سرد جذبوں کے پگھلنے تک
نئی خواہش کی سرحد پر
پرانے چاند ڈھلنے تک!!
 

˙·٠•●♥ H(♥♥ مھجے تم یاد آتے ہو ♥♥)G♥●•



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111