MUJAY TUM BOHT YAD AATE HO


10 Oct 2014

برس جاتا ہے جس کو دیکھ کر ساون شراروں میں

برس جاتا ہے جس کو دیکھ کر ساون شراروں میں
وہ ایسا شخص کوئی ایک ہوتا ہے ہزاروں میں

ترنم قہقہوں کی آبشاروں کا بجا لیکن
مزا کچھ اور ہی ہے بیٹھنے کا غم کے ماروں میں


یہ کس بے درد کی غیرت کا لاشہ آ گرا ہم میں
یہ کس نے طنز کاپھینکا ہے پتھر آشکباروں میں

گُر چاہت کے پاؤ گے نہ رنگوں کے سمندر میں
ملیں گے تم کو یہ انمول موتی خاکساروں میں

سنائی دے رہی ہے بازگشت اس کی مجھے اب بھی
کہ جیسے گونجتی ہو اک صدا سی کوہساروں میں

اسے خوشبو بھرے جھونکوں سے بھی تکلیف ہوتی ہے
جلا ہو دھیرے دھیرے آشیاں جس کا بہاروں میں

چھلک جاتا ہے غم انور آنسو بن کے آنکھوں سے
کہ یہ دریا نہیں رہتا کبھی اپنے کناروں میں



˙·٠•●♥ H(♥♥ مھجے تم یاد آتے ہو ♥♥)G♥●•



B♥♥♥♥♥B

No comments:

Post a Comment

111111111111111111111111111111111111111111111111